منگل 13 اکتوبر 2026 - 07:00
ایرانی قوت کے اہم عوامل "قرآنی تعلیمات، عوامی طاقت اور خود انحصاری" ہیں

حوزہ / حوزہ علمیہ کے محقق حجۃ الاسلام والمسلمین محمد صادق یوسفی مقدم نے قرآنی تعلیمات کی روشنی میں طاقت کے تصور کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: جمہوریہ اسلامی ایران کو مادی محاسبات میں چوتھی طاقت اور الٰہی محاسبات میں پہلی طاقت قرار دینے کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے قرآنی الٰہیات اور لبرل و سیکولر نظریات کے بنیادی فرق کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے مطابق، ایران کے شہر قم المقدسہ میں منعقدہ علمی و تجزیاتی نشست «ایران؛ الٰہی محاسبات کی بنیاد پر دنیا کی پہلی طاقت» میں مقررین نے کہا: ایران کی طاقت کا جائزہ صرف مادی وسائل اور عسکری صلاحیتوں کی بنیاد پر نہیں لیا جا سکتا بلکہ ایمان، قرآنی تعلیمات، عوامی اتحاد، خود انحصاری اور الٰہی سنتوں کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

یہ نشست ہفتہ، 10 اکتوبر 2026ء کو حوزہ نیوز ایجنسی کے دفتر میں منعقد ہوئی، جس میں حجۃ الاسلام والمسلمین محمد صادق یوسفی مقدم، حوزہ علمیہ کی انجمن مطالعاتِ اجتماعی کے سربراہ اور قم کی آزاد اسلامی یونیورسٹی کے رئیس حجۃ الاسلام والمسلمین حسن خیری اور حوزہ علمیہ کے بین الاقوامی امور کے نائب سرپرست اور بین الاقوامی امور کے ماہر حجۃ الاسلام والمسلمین محمد رضا برتہ نے شرکت کی۔

مقررین نے قرآنی، سماجی اور فلسفیانہ و بین الاقوامی زاویوں سے ایران کی طاقت کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ کسی ملک کی حقیقی قوت کا اندازہ صرف مادی وسائل سے نہیں لگایا جا سکتا، بلکہ اس کے اعتقادی اصولوں، عوامی اتحاد، اجتماعی ارادے اور تہذیبی بنیادوں کو بھی اہمیت دینا ضروری ہے۔

قرآن و معارفِ قرآن کے تحقیقی مرکز کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین یوسفی مقدم نے کہا: مادی نظریات میں طاقت کا اندازہ عسکری، معاشی اور نرم طاقت جیسے عوامل سے لگایا جاتا ہے، جبکہ قرآنی نقطۂ نظر میں مادی اسباب کے ساتھ معنوی اور غیبی عوامل بھی اہمیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے الٰہی سنتِ تغییر، نصرتِ الٰہی اور حق کے غلبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا: معاشرے کی تبدیلی کے لیے داخلی اصلاح، ایمان اور استقامت ضروری ہیں۔ اسلامی معاشرے کو مادی اور معنوی دونوں میدانوں میں اپنی صلاحیتیں مضبوط بنانی چاہییں۔

 قرآنی تعلیمات، عوامی طاقت اور خود انحصاری ایرانی قوت کے اہم عوامل ہیں

انہوں نے مزید کہا: عسکری قوت کے ساتھ معاشی، ثقافتی اور سماجی استحکام بھی بازدارندگی کے لیے ضروری ہے۔ ان کے مطابق، خود سازی، معاشرے کی تعمیر اور تہذیب سازی کے لیے عوام کی فعال شرکت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

قم کی آزاد اسلامی یونیورسٹی کے رئیس حجۃ الاسلام والمسلمین حسن خیری نے کہا: اسلامی تہذیب میں طاقت کا مقصد دوسروں پر تسلط قائم کرنا نہیں، بلکہ اقتدار کے ساتھ انسانیت کی خدمت کرنا ہے۔ انہوں نے امامت و امت کے باہمی تعلق، عوامی بصیرت، خود انحصاری اور اجتماعی ارادے کو ایران کی طاقت کے اہم عوامل قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہا: اگر انسان کائنات کی حقیقت کو صرف محسوسات اور ظاہری مشاہدات تک محدود کر دے تو اس کے تجزیے نامکمل رہ جاتے ہیں۔ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں طاقت کا درست تجزیہ کرنے کے لیے نظامِ آفرینش، الٰہی سنتوں اور معنوی عوامل کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔

حوزہ علمیہ کے بین الاقوامی امور کے نائب سرپرست حجۃ الاسلام والمسلمین خیری نے کہا: اسلامی معاشرے کو مادی اور معنوی دونوں میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا چاہیے۔ قرآن کریم کا حکم «وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ» بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ طاقت کی تیاری کا مفہوم وسیع ہے اور اسے کسی ایک شعبے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔

 قرآنی تعلیمات، عوامی طاقت اور خود انحصاری ایرانی قوت کے اہم عوامل ہیں

انہوں نے طاقت کے فلسفیانہ اور وجودی پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: طاقت، عزت اور اقتدار کا جائزہ صرف ظاہری وسائل کی بنیاد پر نہیں لینا چاہیے، بلکہ ان کے بنیادی سرچشموں کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین محمد رضا برتہ نے کہا: انبیائے الٰہی کا مقصد تسلط پسند سلطنتیں قائم کرنا نہیں، بلکہ انسانوں کو ظلم و ذلت سے نجات دلانا، ان کی رہنمائی کرنا اور ان کی قوتِ ارادی کو مضبوط بنانا تھا۔

انہوں نے کہا: اسلامی تہذیب کی طاقت کا ایک اہم پہلو امت کا تصور ہے، جس کے تحت دینی اور اعتقادی روابط جغرافیائی سرحدوں سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ ایران کے بین الاقوامی اثر و رسوخ کو سمجھنے کے لیے مادی وسائل کے ساتھ اس کی فکری، اعتقادی اور سماجی صلاحیتوں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ تسلط پسند نظام خوف اور مادی خواہشات کے ذریعے انسانوں کی قوتِ ارادی کو کمزور کرتے ہیں، جبکہ نبوی تہذیب ایسے افراد کی تربیت کرتی ہے جو شعور، اختیار اور آزادانہ فیصلے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

 قرآنی تعلیمات، عوامی طاقت اور خود انحصاری ایرانی قوت کے اہم عوامل ہیں

نشست کے اختتام پر مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کی طاقت کا جامع جائزہ لینے کے لیے عسکری اور معاشی وسائل کے ساتھ ایمان، معنویت، عوامی شرکت، خود انحصاری، اجتماعی ارادے اور تہذیبی بنیادوں کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔

ان کے مطابق، قرآنی تعلیمات میں طاقت کا مقصد صرف غلبہ حاصل کرنا نہیں، بلکہ عدل کا قیام، انسانوں کی رہنمائی، ظلم کا مقابلہ اور انسانی صلاحیتوں کی نشوونما ہے۔ مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسلامی معاشرے کے اہداف کی تکمیل کے لیے خود سازی، سماجی اصلاح، عوامی اتحاد اور تہذیب سازی کے عمل کو مسلسل آگے بڑھانا ضروری ہے۔

 قرآنی تعلیمات، عوامی طاقت اور خود انحصاری ایرانی قوت کے اہم عوامل ہیں

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha